ابتدائیہ
علم کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے، اسی کی بنا پر انسان کے سر پر شرافت و کرامت اور عزت و رفعت کا تاج رکھا گیا، اس کی نشر و اشاعت اور فروغ میں مدارس اسلامیہ کا بنیادی اور اہم رول رہا ہے، یہ دینِ مبین کی حفاظت کے قلعے ہیں، یہ علم و انسانیت کی درسگاہیں اور اخلاق و آدمیت کی تربیت گاہیں ہیں، جہاں انسان تیار ہوتے ہیں، ایثار و ہمدردی کے پیکر ڈھلتے ہیں، محب وطن اور خیر خواہ شہری تیار ہوتے ہیں۔
انہیں مدارس دینیہ میں ایک اہم نام مدرسہ قاسمیہ بینی آباد کا بھی ہے، جو آج سے ۳۲ برس قبل بینی آباد کی تاریک فضا میں علم و عمل کا دیپ جلانے کے لیے شمالی بہار کے مشہور و بافیض عالم دین، داعی الی اللہ حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی رحمة الله علیہ کے ہاتھوں قائم ہوا۔
جو بحمد اللہ بہت ہی قلیل مدت میں ترقی کے عروج کو پہنچا اور جس نے پورے قرب و جوار میں تعلیم کی پختگی، حسن تربیت، صحت مخارج کے ساتھ تلاوت قرآن کے اہتمام، حفظ قرآن اور نورانی قاعدہ کی باقاعدہ تعلیم سے اپنی ایک منفرد اور الگ شناخت قائم کرلی۔ اس کم عرصے میں تقریباً ۲۰۰ حفاظ پیدا ہوئے جو ملک کے مختلف خطوں میں دعوت و دین کے کاموں میں مصروف ہیں۔ اللہ پاک ادارے کو مزید ترقیاں بخشے۔ آمین!